Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Allama Iqbal ki malumat

 علامہ اقبال کی شاعری فلسفہ، روحانیت اور تحریک کا ایک گہرا سمندر ہے۔ آپ کو "شاعرِ مشرق" کہا جاتا ہے اور آپ نے پاکستان کی تخلیق کی فکری اور نظریاتی بیداری میں کلیدی کردار ادا کیا۔

آپ کی تخلیقات بنیادی طور پر فارسی اور اردو میں ہیں۔ آپ نے شاعری کو اپنے پیچیدہ فلسفیانہ خیالات، خاص طور پر "خودی" کے تصور کو پیش کرنے کے لیے ایک ذریعہ بنایا۔

ذیل میں آپ کے شعری موضوعات، چند مشہور اشعار اور ان کے مفاہیم پیش ہیں۔

اقبال کی شاعری کے بنیادی موضوعات

1. خودی (Selfhood)

یہ اقبال کے فلسفے کا مرکزی ستون ہے۔ اس کا مطلب انا پرستی نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کی پہچان اور مضبوطی ہے۔ ایک مضبوط "خودی" فرد اور قوم دونوں کے عروج کے لیے ضروری ہے۔

2. شاہین (The Falcon/Eagle)

یہ مثالی انسان کی علامت ہے۔ شاہین بلند پرواز، خود مختار، خود کفیل اور عظیم شان کا حامل ہوتا ہے۔ اقبال نے اسے اکثر نوجوانوں سے خطاب کے لیے استعمال کیا۔

3. بے خودی (Selflessness)

خودی کی تکمیل کے بعد کی وہ منزل جہاں فرد کا اپنا وجود ذاتِ الٰہی کی محبت اور انسانیت کی خدمت میں گم ہو جاتا ہے۔

4. امت اور اسلامی نشاۃ ثانیہ

اقبال کو مسلم دنیا کی حالت پر گہری فکر تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کو جمود چھوڑ کر عمل اور ایمان کے ذریعے اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے کی دعوت دی۔

5. عشق و محبت (Ishq)

اقبال کے نزدیک عشق ہی وہ قوت محرکہ ہے جو تمام تخلیق کی بنیاد ہے۔ یہ ایک ایسی الہامی محبت ہے جو عمل کی تحریک دیتی ہے۔

6. جدیدیت پر تنقید

اقبال نے مغرب کی مادہ پرستی، بے روح جمہوریت اور زمین پر مبنی قومیت پر تنقید کی، اور روحانی اصولوں پر مبنی معاشرے کا تصور پیش کیا۔


اقبال کے چند مشہور اشعار اور ان کی تشریح

1. خودی پر شعر

شعر:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مفہوم:
اپنی خودی کو اس قدر بلند کر لے کہ ہر تقدیر کے فیصلے سے پہلے
خود خدا تجھ سے پوچھے کہ "بتا، تیری مرضی کیا ہے؟"

یہ اقبال کا شاید سب سے مشہور شعر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب آپ اپنی شخصیت اور صلاحیت کو اعلیٰ ترین سطح تک پہنچا دیتے ہیں، تو آپ اپنی تقدیر کے خالق بن جاتے ہیں۔

2. نوجوانوں سے خطاب (شاہین کی علامت میں)

شعر:

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

مفہوم:
تیرا ٹھکانا شاہی محلات کے گنبدوں پر نہیں ہے۔
تو شاہین ہے، پہاڑوں کی چٹانوں میں اپنا مسکن بنا۔

یہ نوجوانوں کے لیے ایک براہ راست پیغام ہے کہ وہ اونچے مقاصد کے حامل ہوں، مشکلات کو گلے لگائیں اور خود انحصار بنیں۔

3. عمل اور حرکت پر شعر

شعر:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

مفہوم:
ستاروں سے پرے اور بھی دنیائیں ہیں۔
ابھی عشق کے امتحان اور بھی باقی ہیں۔

یہ شعر مسلسل سعی اور کبھی مطمئن نہ ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ کامیابی اور روحانی سفر لامتناہی ہے۔

4. عشق کی طاقت پر شعر

شعر:

محبت کی ایک جھلک دکھا کے مجنوں کو بے خود کیا
یہی اسرائیل ہے جس نے کلیم اللہ سے کہا

مفہوم:
اقبال یہاں عشق (الہامی محبت) کی طاقت کا موازنہ حضرت موسیٰ (کلیم اللہ) کو ملنے والے وحی کے انعام سے کرتے ہیں۔ جس طرح محبت کی ایک جھلک نے مجنوں کو بے خود کر دیا، یہی وہ الہامی قوت (جبرائیل کی صورت میں) ہے جس نے موسیٰ سے کلام کیا۔ عشق ہی حتمی تبدیلی کی قوت ہے۔

5. مسلم دنیا کے نام پیغام (شکوہ و جواب شکوہ سے)

شکوہ:

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر

جواب شکوہ:

تم میں ہوں کوئی؟ کہ ہو جس کو خبر ہو کہ کیا ہے مسلمان
بتاؤ تو سہی وہ کون سا قوم کا فرزند تھا جس نے

مفہوم:
شکوہ میں اقبال مسلمانوں کی جانب سے خدا سے ان کی زوال پذیر حالت پر شکایت کرتے ہوئے ان کے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔
جواب شکوہ میں خدا جواب دیتے ہیں کہ مسئلہ اس میں نہیں بلکہ مسلمانوں میں ہے، جنہوں نے عمل، ایمان اور اتحاد کے ان اصولوں کو ترک کر دیا ہے جو انہیں عظیم بناتے تھے۔ یہ خود احتسابی کی پرزور دعوت ہے۔


اقبال کے اہم شعری مجموعے

اردو میں:

  • بانگِ درا: اس میں ان کی ابتدائی، زیادہ قوم پرست شاعری شامل ہے، جیسے مشہور ترانہِ ہندی ("سارے جہاں سے اچھا") اور ترانہِ ملی۔

  • بالِ جبریل: اس میں ان کی پختہ فلسفیانہ شاعری شامل ہے۔

  • ضربِ کلیم: یہ حضرت موسیٰ کے ضرب کی مانند بیدار کرنے والے اشعار کا مجموعہ ہے۔

فارسی میں (جہاں انہوں نے اپنے گہرے فلسفے کا اظہار کیا):

  • اسرارِ خودی: خودی کے فلسفے پر بنیادی متن۔

  • رموزِ بے خودی: فرد کے اپنے آپ کو اجتماع کے لیے قربان کرنے پر بحث۔

  • جاوید نامہ: ایک مثنوی جس میں رومی کی رہنمائی میں اقبال کی روح آسمانوں کی سفر کرتی ہے۔


Important Sayings and Life quotes

اہم اقوال 

اگر اللہ تمہارا دِل نہیں بدل رہا  تو یقین رکھو

كے وہ تمہارا نصیب بدلنے پر رضی ہے



Agar allah tumhara dil nahi badal raha to yaqeen rakho 
Ke wo tumhara naseeb badalne par razi hai


Aim for the moon. If you miss
you may hit a star



مشکل وقت میں ہمیشہ دعا مانگو
جہاں انسان کا حوصلہ ختم ہوتا ہے
وہاں سے اللہ پاک کی رحمت شروع ہوتی ہے 

Mushkil waqt main hamesha dua maanga karo Jahan insan ka hausla khatam hota hai Wahan se Allah Paak ki Rehmat shuru hoti hai.

Mushkil waqt main hamesha dua maanga karo
Jahan insan ka hausla khatam hota hai
Wahan se Allah Paak ki Rehmat shuru hoti hai. 


Mushkil waqt main hamesha dua maanga karo Jahan insan ka hausla khatam hota hai Wahan se Allah Paak ki Rehmat shuru hoti hai.

اپنی دعا پر یقین رکھے
وہ رحمن ہے رد نہیں کرتا


apni dua par yaqeen rakhen wo rehman hai rad nahi karta

apni dua par yaqeen rakhen wo rehman hai rad nahi karta

apni dua par yaqeen rakhen

wo rehman hai rad nahi karta


apni dua par yaqeen rakhen wo rehman hai rad nahi karta

کر کے تیرے کن پر یقین مولا
بڑی حسرتیں سنبھال رکھی ہیں

Kar-ke-tere-KUN-pe-yaqeen-maula-Badi-hasraten-sambhal-rakhi-hai

Kar ke tere KUN pe yaqeen maula
Badi hasraten sambhal rakhi hai

Kar ke tere KUN pe yaqeen maula Badi hasraten sambhal rakhi hai

جو اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھتے  ہیں

ان کے لیے معجزے بھی اسی دُنیا میں ہوتے ہیں



معجزے تو ان کی دعاؤں كے لیے ہوتے ہے

جو اللہ سے مانگ کر پِھر کسی سے نہیں مانگتے



 , دعائیں نصیب سے نہیں بلکہ نصیب دعاؤں سے بدلتا ہے 

تم اتنے یقین سے مانگو كے تمھارے یقین كے بعد

 کہانی معجزوں کی لکھی جائے


Duaein naseeb se nahi balkey naseeb duaon se badalta hai, Tum itne yaqeen se mango ke, tumhare yaqeen ke baad kahani moajzon ki likhi jaye


Duaein naseeb se nahi balkey naseeb duaon se badalta hai, Tum itne yaqeen se mango ke, tumhare yaqeen ke baad kahani moajzon ki likhi jaye

Duaein naseeb se nahi balkey naseeb duaon se badalta hai,
Tum itne yaqeen se mango ke, tumhare yaqeen ke baad 
kahani moajzon ki likhi jaye 


Duaein naseeb se nahi balkey naseeb duaon se badalta hai, Tum itne yaqeen se mango ke, tumhare yaqeen ke baad kahani moajzon ki likhi jaye


تمھارے ایک آنسو کی پُکار ساتویں
عرش سے ٹکراتی ہے اور اللہ کو مناتی ہے

Tumhare eik ansu ki pukar satwen  arsh se takrati hai aur Allah ko manati hai

Tumhare eik ansu ki pukar satwen 
Arsh se takrati hai aur Allah ko manati hai

Tumhare eik ansu ki pukar satwen  arsh se takrati hai aur Allah ko manati hai

Allah tumhare dil main kuch nahi dalta
siwaye uske jo vo tumhe dene keliye tayar ho


اللہ تمھارے دِل میں کچھ نہیں ڈالتا
سوائے اسکے جو وہ تمہیں دینے کیلئے تیار ہو


Allah tumhare dil main kuch nahi dalta siwaye uske jo vo tumhe dene keliye tayar ho



































Allama Iqbal shayari/poetry, Allama Iqbal motivational and inspirational shayari/poetry

 

 علامہ اقبال کی شاعری , موٹی ویشنل شاعری


حیات لے كے چلو كائنات لے كے چلو

چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے كے چلو

Hayat-le-ke-chalo-kaynat-le-ke-chalo-Chalo-to-sare-zamane-ko-sath-le-ke-challo

Hayat le ke chalo kaynat le ke chalo

Chalo to sare zamane ko sath le ke chalo


Hayat-le-ke-chalo-kaynat-le-ke-chalo-Chalo-tto-sare-zamane-ko-sath-le-ke-challo

کوئی چارا نہیں دعا كے سوا

کوئی سنتا نہیں خدا كے سوا


Koi-chara-nahi-dua-ke-siva-Koi-sunta-nahi-khudaa-ke-siva

Koi chara nahi dua ke siva

Koi sunta nahi khuda ke siva

Koi-chara-nahi-dua-ke-siva-Koi-sunta-nahi-khuda-ke--siva

دُنیا جسے کہتے ہے جادو کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے


Duniya-jise-kahte-hai-jaadu-ka-khilona-hai-Mil-jaye-to-mitti-hai-kho-jaye-tto-sona-hai

Duniya jise kahte hai jaadu ka khilona hai

Mil jaye to mitti hai kho jaye to sona hai

Duniya jise kahte hai jaadu ka khilona hai  Mil jaye to mitti hai kho jaye to sona hai

کشتیاں سب کی کناروں پہ پہنچ جاتی ہے

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

kashtiyan-sab-ki-kinaron-pe-puhanch-jati-hai-Nakhuda-jinka-nahi-un-ka-khuda-hota-haii

kashtiyan sab ki kinaron pe puhanch jati hai

Nakhuda jinka nahi un ka khuda hota hai

kashtiyan-sab-ki-kinaron-pe-puhanch-jati-hai-Nakhuda-jinka-nahi-un-ka-khuda-hota-haii

چلے چلیے کی چلنا ہی دلیل کامرانی ہے

جو تھک کر بیٹھ جاتے ہے وہ منزل پا نہیں سکتے


Chale chaliye ki chalna hi dalil-e-kamrani hai

Jo thak kar baith jate hai wo manzil pa nahi sakte


یہ اور بات کی آندھی ہمارے بس میں نہیں

مگر چراغ جلانا تو اختیار میں ہے


Ye aur baat ki aandhi hamare bas main nahi

Magar chirage jalana to ikhtiyar main hai



آگ لگانے والوں کو کہاں خبر ہے

رخ ہواؤں نے بدلہ تو خاک وہ بھی ہونگے


Aag lagane walon ko kahan khbr hai  Rukh hawaon ne badla to khaq wo bhi honge

Aag lagane walon ko kahan khbr hai  Rukh hawaon ne badla to khaq wo bhi honge

Aag lagane walon ko kahan khbr hai

Rukh hawaon ne badla to khaq wo bhi honge

Aag lagane walon ko kahan khabr hai Rukh hawaon ne badla to khaq wo bhi honge | Deep words

تا عمر بس اک ہی سبق یاد رکھیے

تعلق اور عبادت میں نیت صاف رکھیے


Ta umer bas ek hi sabaq yaad rakhiye

Taluq aur ibadat main niyat saaf rakhiye


مل سکے آسانی سے ، اسکی کوشش کسے ہے

ضد تو اسکی ہے ، جو مقدر میں لکھا نہیں ہے


Mil sake aasani se, uski koshish kisay hai

Zid to uski hai, jo muqader main likha nahi hai





Allama Iqbal shayari/poetry, Allama Iqbal motivational shayari/poetry

 

  علامہ اقبال کی شاعری , موٹی ویشنل شاعری


ندامت كے چراغوں سے بَدَل جاتی ہے تقدیریں

اندھیری رات كے آنسو خدا سے بات کرتے ہے


Nadamat-ke-chiragon-se-badal-jati-hai-taqdeeren-Andheri-raat-ke-ansu-khuda-se-baat-karte-hai

Nadamat ke chiragon se badal jati hai taqdeeren

Andheri raat ke ansu khuda se baat karte hai

Nadamat ke chiragon se badal jati hai taqdeeren  Andheri raat ke ansu khuda se baat karte hai


شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

پر دم ہے اگر تو ، تو نہیں خطرہ افتاد

Shaheen kabhi parwaz se thak kar nahi girta

Par dum hai agar tu, tu nahi khatra aftad


عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے نوجوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو منزل آسمانوں میں


Aqabi ruh jab bedar hoti hai naujawanon main

Nazar ati hai in ko manzil asmanon main


نا تھا کچھ تو خدا تھا ، کچھ نا ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے ، نا ہوتا میں تو کیا ہوتا


Na tha kuch to khuda tha, kuch na hota to khuda hota

Duboya mujh ko hone ne, na hota main to kiya hota



ہزاروں خواہش ایسی كے ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے میرے ارمان لیکن پِھر بھی کم نکلے


Hazaron khawaish aisi ke har khawaish pe dum nikle

Bahut nikle mere armaan lekin phir bhi kum nikle



لے دے كے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے

کیوں دیکھے زندگی کو کسی کی نظر سے


Le de ke apne paas faqt ek nazar to hai

kiyun dekhe zindagi ko kisi ki nazar se



اب تو گھبرا كے یہ کہتے ہے كے مر جائینگے
مر كے بھی چین نا پایا تو کدھر جائینگے


Ab to ghabra ke ye kahte hai ke mar jayenge

Mar ke bhi chayn na paya to kidhar jayenge



جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہے
وہی دُنیا بدلتے جا رہے ہے


Jo tufanon main paltaay ja rahe hai

Wahi duniya badalte ja rahe hai


مسافر کل بھی تھا

مسافر آج بھی ہوں

کل اپناؤں کی تلاش میں تھا

آج اپنی تلاش میں ہوں



Musafir kal bhi tha

musafir aaj bhi hun

Kal apnaun ki talash main tha

Aaj apni talash main hun



منزل تو ملے گی بھٹک کر ہی سہی
گمراہ تو وہ ہے جو گھر سے نکلے ہی نہیں


Manzil to milegi bhatak kar hi sahi  Gumrah to wo hai jo ghar se nikle hi nahi

Manzil to milegi bhatak kar hi sahi

Gumrah to wo hai jo ghar se nikle hi nahi


Manzil to milegi bhatak kar hi sahi  Gumrah to wo hai jo ghar se nikle hi nahi

زندگی کی محفل میں جب صبر آتا ہے
تو بیشمار گناہ اٹھ كے چلے جاتے ہے


Zindagi ki mehfil main jab sabr aata hai

     To beshumar gunah uth ke chale jate hai


    
اپنی تقدیر خود ہی لکھنی ہو گی
یہ کوئی چھٹی نہیں جو دوسروں سے لکھوا لوگے
 

Apni taqdeer khud hi likhni ho gi

Ye koi chitti nahi jo dusron se likhwa loge 


زمانے میں آئے ہو تو
جینا کا ہنر بھی رکھنا
دشمنوں سے کوئی خطرہ نہیں
بس اپنوں پہ نظر رکھنا


Zamane me aye ho to

Jeena ka hunar bhi rakhna

Dushmano se koi khatra nahi

Bas apno pe nazar rakhna 


کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

کہیں زمیں کہیں آسمان نہیں ملتا


Kabhi kisi ko mukammal jahan nahi milta

Kahin zamin kahin aasman nahi milta


اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر كے ہَم ہے

رخ ہوائوں کا جدھر کا ہے اُدھر كے ہَم ہے


Apni marzi se kahan apne safar ke ham hai

Rukh havaon ka jidhar ka hai udhar ke ham hai


کوشش بھی کر امید بھی رکھ راسته بھی چن

پِھر اِس كے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر


Koshish bhi kar umid bhi rakh raasta bhi chun

Phir is ke baad thoda muqadar talash kar


موت کا بھی علاج ہو شاید

زندگی کا کوئی علاج نہیں


Maut ka bhi ilaag ho shayad

Zindagi ka koi ilaag nahi


بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہے

تجھے اے زندگی ہَم دور سے پہچان لیتے ہے


Bahut pahle se un qadmon ki aahat jaan lete hai

Tujhe ae zindagi ham dur se pahchan lete hai


سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

سبھی ہے بھیڑ میں تم بھی چل سکو تو چلو


Safar mein dhoop to hogi jo chal sako to chalo

Sabhi hai bheed mein tum bhi chal sako to chalo


ہر آدمی میں ہے دس بیس آدمی

جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا


Har aadmi main hai das bees aadmi

Jis ko bhi dekhna ho kai bar dekhna